ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں گئو کشی مخالف قانون کیخلاف اسمبلی میں آواز بلند، سدا میا نے اسے کمیونل ایجنڈہ قراردیا

کرناٹک میں گئو کشی مخالف قانون کیخلاف اسمبلی میں آواز بلند، سدا میا نے اسے کمیونل ایجنڈہ قراردیا

Thu, 16 Feb 2023 12:55:40    S.O. News Service

بنگلورو16/فروری(ایس اونیوز/ایجنسی) کرناٹک میں گئوکشی پرپابندی کےقانون کےخلاف کانگریس کے سینئرلیڈراور سابق وزیراعلیٰ سدارمیا نے منگل کو اسمبلی میں آواز بلند کرتے ہوئےگورنر کی تقریر میں  کئے گئے اس دعوے کی   تردید کی کہ اس فیصلے سے عوام کو فائدہ پہنچا ہے۔ 

 گورنر کےخطبہ پر تحریک شکریہ میں خطاب کرتے ہوئے سدارامیا نے مذکورہ قانون کو بی جے پی سرکار کے ’’کمیونل ایجنڈہ‘‘ کا حصہ اورکسانوں کیلئے نقصاندہ قراردیا اوراس قانون کو منسوخ  کرنے کامطالبہ کیا۔  یاد رہے کہ اپنے خطبے میں گورنر تھاور چندگہلوت  نے ریاست کی بی جے پی سرکار کے گئو کشی مخالف قانون مجریہ ۲۰۲۰ء کی پزیرائی کرتے ہوئے اسے عوام اور ماحولیات کیلئے فائدہ مند قراردیا ہے۔

اس کا جواب دیتے ہوئے سدا رامیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ قانون کسانوں  کے مفادات کے قطعی خلاف ہے۔ انہوں  نے اس بات پر حیرت کااظہار کیا کہ جس قانون  کاکسانوں  کی زندگیوں پر منفی اثر پڑا ہےاس کی گورنر نے تعریف کی ہے۔ سدارمیا نے کہا کہ ’’گورنر  نے دعویٰ کیا ہے کہ گئو کشی مخالف بل سے ماحولیات کو فائدہ پہنچا ہے مگر ایسانہیں ہے۔ پہلے کسان  ایسے مویشی کو بیچ سکتے تھے جو کار آمد نہ رہ جائے ،مگر اب وہ ایسا نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کے خلاف کیس درج ہوجائےگا۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’گئو کشی مخالف قانون کو منسوخ  کیجئے، یہ خفیہ اور کمیونل ایجنڈہ کا حصہ ہے۔ بوڑھی اور بیمار گایوں کا کوئی خریدار نہیں  ہے، یہ کسانوں کیلئے نقصان کا سودا بن گیا ہے۔‘‘  انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سدارمیا نے گئو کشی  پر پابندی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان کو متوجہ کیا کہ ’’گئوکشی مخالف قانون کی وجہ سے دودھ کی پیداوار یومیہ ۹۴؍  لاکھ لیٹر سے گھٹ کر ۷۶؍ لاکھ لیٹر ہوگئی ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی سابق وزیراعلیٰ نے سوال کیا کہ ’’کسانوں  کی آمدنی میں یومیہ ۶ء۶؍کروڑ روپوں کی کمی آئی ہے،اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جو لوگ گئو کشی مخالف قانون کیلئے اپنی پیٹھ تھپتھپارہے ہیں۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ حکومت کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے آج کسانوں کو پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔‘‘ 

 جنتادل سیکولر کے سامامہیش نے بھی کہاکہ گائے اوراس کی نسل کے جانوروں کی فروخت پر پابندی کسانوں کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔  گائے کی نسل کے جانوروں کی فروخت کیلئے بڑھائی گئی کاغذی کارروائی کی بھی انہوں  نے مذمت کی اور   نشاندہی کی کہ ’’گئو شالاؤں میں مویشی کو چارہ تک نہیں ملتا۔ ‘‘اس کا جواب دیتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا جنیندرا نے صفائی پیش کی کہ مویشیوں کو بازار میں  فروخت تو کیا جاسکتاہے مگر اس کیلئے ضرورت اجازت لینی ہوتی ہے۔ کرناٹک میں گئو کشی مخالف بل کے تحت نہ صرف گائے،بیل اور بچھڑے کے ذبیحہ پر پابندی ہے بلکہ بھینس اور بھینسا بھی ذبح نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاملے میں  صرف  ۱۳؍ سال سے زائد عمر کی  بھینس یا بھینسے کا استثنیٰ  رکھا گیا ہے جن کے تعلق سے متعلقہ محکمہ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ 


Share: